14 مئی 2012 - 19:30

ایسے حال میں کہ ـ خلیج فارس کی ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعات سمیت مختلف مسائل اور دشواریاں موجود ہیں ـ کل سعودی بادشاہ نے ریاض اجلاس میں شرکت کرکے سعودی عرب کے ساتھ بحرین کے الحاق کا اعلان کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن عرب ریاستوں کے حکمران تعاون کونسل کو اتحاد میں تبدیل کرنے کی سعودی تجویز سے اتفاق نہیں کرسکے بالفاظ دیگر آل سعود کے بادشاہ بحرین کو زیر نگیں لانے کی سازش میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کل کے اجلاس کا ایک نکاتی ایجنڈا ـ تمام بین الاقوامی قوانین اور سفارتی رویوں کے بر عکس ـ خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستوں (عربستان، امارات، کویت، عمان، قطر و بحرین) کو فیڈریشن یا کنفیڈریشن میں تبدیل کرنا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں پر سعودی قبضے کی سا‌زش کا پہلا مرحلہ سر کیا جائے چنانچہ آل خلیفہ اور آل سعود کے خفیہ معاہدے کے تحت بحرین کو سعودی عرب میں ضم کرنے کا منصوبہ تھا لیکن سعودی بادشاہ ریاض کے اجلاس میں کویت، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات کی موافق رائے حاصل نہ کرسکے اور نہ ہی اتحاد قائم ہوسکا اور نہ ہی بحرین کو سعودی عرب کا حصہ بنایا جاسکا۔چار ریاستوں کی مخالفت کا سبب سعودی عرب سے ان ریاستوں کا خوف، بتایا گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ کہیں آل سعود کے بادشاہ اپنی باقی ماندہ زندگی میں تمام چھوٹی ریاستوں کو ہڑپ ہی نہ کرلیں چنانچہ انہیں اس عجیب اتحاد میں داخل ہونے کا کوئی شوق نہیں ہے۔سعودی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنسناکام اجلاس کے بعد آل سعود کے وزیر خارجہ سعود الفیصل اور تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل "عبداللطیف الزیانی" نے پریس کانفرس میں شرکت کی اور سعود نے باقاعدہ اعلان کیا کہ ان کے بقول "سعودی عرب کو [ان کے بقول] "سعودی بحرین اتحاد" کے سلسلے میں اتفاق رائے نہیں پائی گئی لیکن اس اتحاد کو عملی شکل دینے کا منصوبہ برقرار ہے اور یہ پروگرام [بقول ان کے] خلیج تعاون کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے" اور رکن ریاستوں کے حکمران، کونسل کو اتحاد میں تبدیل کرنے کی سعودی تجویز پر غور و فکر جاری رکھیں گے۔یاد رہے کہ جناب سعود الفیصل عمررسیدگی کی وجہ سے بول نہيں پارہے تھے اور رک رک کر الفاظ ادا کررہے تھے جنہيں سمجھنے کے لئے ان کے لبوں کی حرکت کو غور سے دیکھنا پڑرہا تھا۔ انھوں نے کہا: ذيلی کمیٹیوں میں اتحاد کی تجویز پر غور جاری رہے گا اور یہ کہ سعودی عرب نے یہ تجویز تحریری طور پر تمام اراکین کے لئے بھجوا دیا ہے چنانچہ اتحاد کی تجویز پر سب کو عمل کرنا پڑے گا اور جب یہ تجویز منظور ہوگی تو "اتحاد بحرین اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں تمام ریاستوں کو شامل کی جائے گآ"۔ آل سعود کے وزير خارجہ نے تعاون کونسل کے اجلاسوں کے معمول کو البتہ نہیں بھولا اور انھوں نے ایران پر الزامات کا سلسلہ جاری رکھا اور کہا: ہمارے اتحاد کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے! / سعود نے کہا: ہم ایران کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہیں اور ایران سے چاہتے ہیں کہ "وہ ہمارے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت تعلقات قائم کرے"!۔یاد رہے کہ اس قسم کے قسم کے اتحاد کی مخالفت میں ایرانی حکام نے ابھی تک کوئی اظہار خیال نہیں کیا گوکہ کسی ملک کو اس طرح کے غیر قانونی ہتھکنڈوں سے اپنی سرزمین میں ضم کرنے کے سپنوں کو بین الاقوامی مخالفت کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے اور وہ بھی ایسے حال میں کہ ایک ملک اقوام متحدہ کی پانچ رکن ریاستوں کو ہڑپ کرنے کے خواب دیکھ رہا ہو۔ سعود الفیصل نے ایران کے خلاف اپنے گھسے پھٹے الزامات دہراتے ہوئے تین ایرانی جزیروں پر 37 سال قبل معرض وجود میں آنے والی سات ریاستی عرب امارات کے دعوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم امارات کی حمایت کرتے ہیں۔تاہم سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے ان جزیرہ نمائے عرب کے ان جزائر کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا جن پر گذشتہ نصف صدی سے غاصب یہودی ـ صہیونی ریاست نے قبضہ کررکھا ہے اور نہ ہی کسی اور سعودی حکمران نے آج تک ان جزائر کو سعودی عرب کے جزائر کے عنوان سے یاد کرنے کی جرات کی ہے۔ آل سعود وزیر خارجہ ـ جن کا ملک صہیونی ریاست، امریکہ، فرانس، قطر اور ترکی کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف محاذ مزاحمت کو کمزور کرنے کی غرض سے حکومت شام کو غیر مستحکم کرنے کے در پے ہے ـ نے شام میں اصلاحات کے حوالے سے جاری کوفی عنان کے منصوبے پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ کوفی عنان کے منصوبے پر ہمارا اعتماد کم ہورہا ہے۔ انھوں نے سعودی عرب میں جاری انسانیت کش سرکاری پالیسیوں اور عوام کی اصلاحی تحریکوں کو بری طرح کچلنے کی طرف بھی کوئی اشارہ نہیں کیا اور نہ ہی بحرین پر سعودی قبضے کو لائق ذکر سمجھا۔ خلیج فارس تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: کونسل کے رکن ممالک منامہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں سیکورٹی معاہدے پر دستخط کریں گے۔ انھوں نے کئی مسائل کی طرف اشارہ کیا لیکن سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ انھوں نے امریکہ کی طرف سے بحرین کی آل خلیفہ حکومت کو ہتھیاروں کی فروخت پر سے پابندی اٹھائے جانے پر واشنگٹن کا شکریہ ادا کیا۔یاد رہے کہ امریکہ نے اس سے قبل عوام کے خلاف تشدد کے بموجب آل خلیفہ حکومت کو ہتھیار فروخت کرنے پر پابندی لگائی تھی جو حال ہی میں اٹھائی گئی ہے اور چھ کروڑ ڈالر کے ہتھیار فوری طور پر بحرین روانہ کردیئے گئے ہیں تا کہ گرتی ہوئي امریکی معیشت کو ـ عرب ممالک کو ہتھیار فروخت کرکے ـ سنبھالا دینے کا یہ موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے اور بحرین کی پر امن تحریک کو کچلنے کی غرض سے بیرون ملک سے لائے گئے کرائے کے قاتلوں کو بہتر ہتھیار فراہم کئے جاسکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110